
خیبر پختونخوا: ایمرجنسی اور گورنر راج — اکتوبر 2026
واقعات کا خلاصہ (فراہم کردہ حقائق کے مطابق): - وفاق نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا؛ گورنر فیصل کریم کنڈی کی سربراہی میں گیارہ رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی۔ - وفاقی وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور ایک سینئر پولیس افسر نے تصدیق کی کہ آٹھ افراد احتیاطی حراست میں ہیں؛ ان میں غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، قومی اسمبلی رکن جنید اکبر اور صوبائی اسمبلی اسپیکر بابر سلیم سواتی شامل بتائے گئے۔ - وفاقی حکومت نے اقدام کی جواز کے طور پر صوبائی سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے خلاف مبینہ عدم تعاون کا حوالہ دیا، جبکہ پاکستان تحریکِ انصاف نے اسے سیاسی قرار دے کر احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ - پشاور میں کنٹینرز اور اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی اور بعض اضلاع میں انتظامی اقدامات کے باعث تعلیمی امتحانات کی تاخیر کی اطلاعات آئیں۔ - زیرِ حراست رہنماؤں کے خلاف ابھی تک کسی مخصوص عدالتی فیصلے یا جرم کی تصدیق رپورٹ نہیں ہوئی؛ ان کی قانونی حیثیت اور آگے کی کارروائی متعلقہ قانونی عمل سے طے ہوگی۔
- خیبر پختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور اسمبلی اسپیکر احتیاطی حراست میں، حکام کی تصدیق
- خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، گورنر کی سربراہی میں مشاورتی کونسل صوبائی امور چلائے گی
- بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان تعلیمی بورڈز نے میٹرک کے امتحانات ملتوی کردیے
- سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی مبینہ حراست پر پی ٹی آئی کا احتجاج، حکام کی جانب سے تصدیق نہیں










